Ad Code

Responsive Advertisement

A Reward for Honesty / ایمانداری کا انعام

ایمانداری کا انعام





ایک دفعہ کا زکر  ہے کہ ایک دور دراز گاؤں میں رنگ ساز     رہتا تھا۔رنگ ساز ایک ایماندار انسان تھا اور ایک ہنر مند پینٹر بھی۔وہ دیواریں کشتیاں اور گھر رنگ کرتا اور اپنا کام پوری ایمانداری اور وفاداری سے کرتا۔

ایک دفعہ ایک دوست  نے رنگ ساز کو اپنے گھر کا جنگلا رنگ کرنے کے لیے بولا اور یہ کام جلدی ختم کرنے کے لیے بولا کیونکہ اُس میں زنگ لگ جانے کا خطرہ تھا۔

رنگ ساز   ؛ٹھیک ہے میں ابھی شروع کر دیتا ہوں

دوست : لیکن ایک مسلہ ہے میں تمہیں اِس جلدی کام ختم کرنے کے عوض زیادہ دام نہیں دے سکتا۔

رنگ ساز : میں آپ کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں اور کام کرنا میرا فرض ہے اِس لیے میں یہ آپ کے اِن دام میں ہی بخوشی کروں گا۔

رنگ ساز ایک مفلص انسان تھا۔کئی دفعہ ایسی بھی راتیں ہوتیں کہ اُس کو بھوکا سونا پڑتا۔لیکن کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے کام کے عوض زیادہ دام نہیں لیتا تھا۔ایک دن ایک بہت ہی دولت مند تاجر وہاں آیا۔اُس نے اور اُس کے گھرانے نے کچھ دن اُس گاؤں میں رکنے کا منصوبہ بنایا۔تاجر نے آتے ساتھ ہی رنگ ساز کو بلوایا کیونکہ اُس کے پاس ایک کشتی تھی جس کو اُس نے رنگ کروانا تھا۔رنگ ساز تاجر کے گھر پہنچا تو تاجر نے چار سونے کے سکے دے اور کشتی کو رنگ کرنے کا بولا۔رنگ ساز جب کشتی کے پاس پہنچا تو اُس نے دیکھا کشتی کے درمیان میں ایک بہت بڑا چھید ہے جو کہ کشتی کے لیے خطرناک ثابت ہو تھا تو رنگ ساز نے پہلے اِس چھید کو درست کرنے کا فیصلہ کیا۔اور اُس کی مرمت کی۔اور رنگ کرنے کے بعد تاجر کو بلوایا۔تاجر نے رنگ ساز کا شکریہ ادا کیا اور رنگ ساز چلا گیا۔اور تاجر نے اپنے گھر والوں کو سمندر کی سیر کے لیے اِس کشتی میں بھیج دیا۔اِتنی دیر میں تاجر کا ملازم آیا اور اُس نے کشتی کا دریافت کیا۔تاجر کے بتانے پر ملازم پریشان ہو گیا۔اور بتایا کہ میں آپ کو بتانا بھول گیا تھا کہ کشتی میں ایک بہت بڑا چھید تھا جس کو مرمت کرنا باقی تھا۔یہ بتانا تھا کہ تاجر اور ملازم دونوں سمندر کی طرف بھاگئے۔لیکن کشتی بہت دور جاچکی تھی۔اب تاجر کے پاس بےبسی کے سوا کچھ نہیں تھا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔کہ اِتنے میں کشتی واپس آتی دکھائی دی۔تو تاجر اور ملازم کے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔کہ ایک بہت بڑے چھید کے ساتھ کشتی کے لیے اتنا سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔

سو تاجر نے رنگ ساز کو بلوایا اور اُس سے اِس سب سے متعلق پوچھا ۔

تو رنگ ساز نے بتایا کہ جب میں رنگ کرنے لگا تو دیکھا کشتی میں ایک بہت بڑا چھید ہے جس کو مرمت کئے بغیر کشتی کا سفر کرنا ممکن نہیں تھا اِس لیے میں نے پہلے اُس کو مرمت کیا اور بعد میں رنگ کیا۔تاجر نے رنگ ساز کی اِس ایمانداری کے بدلے اُس کو بہت سے انعام سے نوازا۔اور رنگ ساز خوشی خوشی اپنے گھر چلا گیا۔اور اُس کے بعد کھبی بھی وہ بھوکے پیٹ نہیں سویا۔

Post a Comment

0 Comments